Top News

دائیں بازو کی آسٹریلوی سیاستدان کی برقع پہن کر پارلیمنٹ میں آمد، شدید ردِعمل

 



دائیں بازو کی آسٹریلوی سیاستدان کی برقع پہن کر پارلیمنٹ میں آمد، شدید ردِعمل



آسٹریلیا کی انتہائی دائیں بازو کی ایک سیاستدان پیر کے روز برقع پہن کر پارلیمنٹ میں داخل ہوئیں جبکہ قانون سازوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے ’’نسل پرستانہ‘‘ اقدام قرار دیا۔

مہاجرت مخالف جماعت ون نیشن کی پولین ہینسن سینٹ میں ایسا بل لانا چاہتی تھیں، جس کے تحت پورے چہرے کے پردے پر پابندی عائد کی جا سکے۔ وہ اس مطالبے کے حق میں دہائیوں سے مہم چلا رہی ہیں۔ دیگر قانون سازوں کی جانب سے بل پیش کرنے سے روکنے کے چند منٹ بعد، ہینسن سیاہ برقع پہن کر ایوان میں واپس آئیں اور اپنی نشست پر بیٹھ گئیں۔ ان کے اس عمل پر سینیٹرز نے سخت برہمی ظاہر کی۔


آسٹریلین گرینز کی سینیٹ لیڈر لیریسا واٹرز نے اسے ’’اہلِ مذہب کے لیے توہین آمیز اشارہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’’انتہائی نسل پرستانہ اور خطرناک‘‘ ہے۔


خارجہ وزیر پیَنی وونگ، جو سینیٹ میں حکومتی لیڈر بھی ہیں، نے اسے ’’غیر مہذب‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’’ہم سب کو اس ایوان میں آنے کا عظیم اعزاز حاصل ہے۔‘‘



Previous Post Next Post