ڈیرہ اسماعیل خان: جوڈیشل کمپلیکس میں فائرنگ، 3 افراد زخمی — ڈی پی او کا فوری ایکشن، 2 ملزمان گرفتار — انجینئر ضیاء الرحمان کا سخت مؤقف
ڈیرہ اسماعیل خان (نمائندہ خصوصی) — ڈیرہ اسماعیل خان کے جوڈیشل کمپلیکس میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کے واقعے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔ واقعہ کے بعد ڈی پی او ڈیرہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دیں اور شہر بھر میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق فائرنگ سہیل راجپوت گروپ اور کفیل نظامی گروپ کے درمیان پیش آئی۔ عینی شاہدین کے مطابق پہلے دونوں فریقین کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھاپائی ہوئی، جس کے بعد سہیل راجپوت گروپ کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس سے کفیل نظامی گروپ کے دو افراد اور سہیل راجپوت گروپ کا ایک شخص زخمی ہوا۔
زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ ڈی پی او ڈیرہ نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔ پولیس کے مطابق دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے اور ناکہ بندیاں جاری ہیں۔
ڈی پی او ڈیرہ کے مطابق شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے تاکہ کوئی ملزم فرار نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ جوڈیشل کمپلیکس پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او نے کہا:
"ڈیرہ اسماعیل خان میں کسی شرپسند کو عوام کی جان و مال سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ قانون کی عملداری یقینی بنائی جائے گی اور ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔"
---
انجینئر ضیاء الرحمان کا ردعمل: “ملزم کو 48 سے 72 گھنٹوں میں گرفتار کیا جائے، بصورت دیگر سخت اقدامات کریں گے”
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما انجینئر ضیاء الرحمان نے جوڈیشل کمپلیکس فائرنگ واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر ملزم گرفتار نہ کیا گیا تو وہ اپنی جماعت کی سطح پر اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ “ملزم بھی معلوم ہے، سارے جہاں نے دیکھا ہوا ہے۔ ہم آپ کی طرف سے کارروائی کے منتظر ہیں لیکن زیادہ انتظار نہیں کریں گے۔ اگر ہمارے تحصیل امیر کو نشانہ بنایا گیا تو ہم اس کو اپنی جماعت پر لیں گے۔”
انجینئر ضیاء الرحمان نے حکام پر زور دیا کہ فوری کارروائی کی جائے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
مقامی سیاسی و سماجی حلقوں نے فائرنگ واقعے اور بعد ازاں سامنے آنے والے بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کر کے تمام ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے

