اسلام آباد: 27ویں آئینی ترمیم میں شقیں شامل کئے جانے کا سلسلہ جاری، صدرمملکت کیخلاف تاحیات کیس بن سکے گا نہ گرفتار کیا جاسکے گا،
یہ ترمیم پیپلز پارٹی کے مطالبے پر آرٹیکل 248 میں شامل کرلی گئی۔ ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے معاملے میں اتحادی جماعتوں کی جانب سے مسودے میں تجاویز شامل کرنے اور نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔
مجوزہ آئینی ترمیم کے اہم نکات کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ متعارف کرادیا گیا ہے اور آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔ فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا رینک حاصل کرنے والا تاحیات یونیفارم میں رہیگا۔اس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے جو شق شامل کی گئی ہے
اس کے مطابق صدرمملکت کیخلاف تاحیات کیس بن سکیگا یہ ہی گرفتار کیا جا سکے گا ،مجوزہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 248 بی میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ صدر مملکت کو گرفتار کرنے یا سزا دینے کا کوئی عمل بھی نہیں کیا جا سکے گا۔
دوسری طرف سینیٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے معاملے میں تحفظات دور کرنے کی غرض سے وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کو کل مدعو کرلیا۔حکومتی و اتحادی سینیٹرز کو وزیراعظم کی جانب سے دعوت نامے موصول ہوگئے ہیں، وزیراعظم حکومتی و اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کے اعزاز میں اعشائیہ دیں گے۔
مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا رینک حاصل کرنے والا تاحیات یونیفارم میں رہیگا۔ فیلڈ مارشل ، مارشل آف ائیرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا رینک اور مراعات بھی تاحیات رہیں گی۔ فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا عہدہ پارلیمنٹ کے مواخذے سے ختم کیا جاسکے گا۔

