"آج کی سب سے بڑی کرکٹ خبر شاید صرف ایک دعوت نامہ نہیں… بلکہ بدلتے ہوئے حالات کی ایک نئی تصویر ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کو بھارت میں ہونے والی آئی سی سی بورڈ میٹنگ اور آئی پی ایل فائنل میں شرکت کی باقاعدہ دعوت موصول ہوئی ہے۔
بظاہر یہ ایک رسمی خبر لگتی ہے، مگر اگر اس کے پس منظر کو دیکھا جائے تو یہ لمحہ کافی اہمیت رکھتا ہے۔برسوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات کشیدگی، سیاست اور فاصلے کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے شائقین ہمیشہ چاہتے رہے کہ کرکٹ میدانوں میں رہے، خبروں کی سرخیوں میں نہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے ایک بڑے کرکٹ عہدیدار کو بھارت کی سب سے بڑی کرکٹ تقریب میں مدعو کیا جانا ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ذرا تصور کریں…
آئی پی ایل کا فائنل، دنیا بھر کی نظریں اسٹیڈیم پر، بڑے بڑے کرکٹرز، آفیشلز، کیمرے اور اسی ماحول میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی موجودگی۔ یہ صرف ایک شخصیت کی شرکت نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کی نمائندگی ہے۔
لوگ اس خبر کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔
کچھ کے نزدیک یہ کرکٹ ڈپلومیسی کی نئی شروعات ہو سکتی ہے، جبکہ کچھ اسے صرف ایک رسمی دعوت قرار دے رہے ہیں۔ مگر ایک حقیقت واضح ہے
کہ کرکٹ دونوں ممالک کے درمیان ہمیشہ ایک جذباتی پل رہی ہے۔شاید شائقین اب وہ وقت دیکھنا چاہتے ہیں جب پاکستان اور بھارت صرف خبروں میں نہیں بلکہ دوبارہ میدان میں بھی ایک دوسرے کے سامنے ہوں…
کیونکہ جب یہ دونوں ٹیمیں کھیلتی ہیں تو صرف میچ نہیں ہوتا، تاریخ بنتی ہے۔"
