سزا کے دن، جب اسے میدان میں لایا گیا تو لوگ بے چینی سے دیکھ رہے تھے۔ جلاد بھی کچھ لمحوں کے لیے رُک گیا۔
اسی وقت، اس بچے نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا:
"یا اللہ! اگر میں بے قصور ہوں تو آج حق کو ظاہر فرما دے…"
یہ کہہ کر اس نے قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دی۔ اس کی آواز میں ایسا درد اور سچائی تھی کہ وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اچانک، مجمع میں سے ایک شخص چیخ اٹھا:
"رک جاؤ! یہ بچہ بے گناہ ہے… اصل مجرم میں ہوں!"
یہ سنتے ہی پورا ماحول بدل گیا۔ جلاد نے تلوار نیچے کر دی، اور عدالت نے فوراً حکم روک دیا۔ بچے کو رہا کر دیا گیا، اور اصل مجرم کو گرفتار کر لیا گیا۔
لوگ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے…
کسی نے آہستہ سے کہا:
"اللہ جب چاہتا ہے، سچ کو خود ظاہر کر دیتا ہے۔"
