Top News

ڈیرہ اسماعیل خان عدالت کے حکم پر تھانہ یارک کے ایس ایچ او خالد خان اور محرر نعمان خان کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت جاری کر دی


 عدالتی حکم: پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت


ڈیرہ اسماعیل خان:ایڈیشنل سیشن جج محمد ایاز خان نے ایک اہم فیصلے میں پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق، یہ فیصلہ نیک سعداللہ کی جانب سے دائر حبس بے جا( ہیبیس کارپس) درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا تھا کہ اسداللہ اور عبداللہ زار کو تھانہ یارک پولیس نے غیرقانونی طور پر حراست میں لے رکھا ہے۔


عدالت نے معاملے کی جانچ کے لیے بیلف کو تفتیشی احکامات کے ساتھ تھانہ یارک بھیجا۔ بیلف کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں افراد تھانے میں موجود نہیں تھے، جبکہ محرر تھانہ نے بھی تحریری طور پر بیان دیا کہ مذکورہ افراد پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں۔


تاہم، اگلے ہی روز عدالت کو اطلاع ملی کہ وہی افراد متعلقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیے گئے ہیں۔ اس تضاد پر عدالت نے ایس ایچ او خالد خان اور محرر نعمان خان کو طلب کیا۔


پولیس اہلکاروں نے موقف اختیار کیا کہ دونوں افراد کو 6 اکتوبر کو ایف آئی آر نمبر 100 کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، مگر عدالت نے نشاندہی کی کہ گرفتاری کارڈ پر وقت درج نہ ہونے کے باعث پولیس قواعد 1934 کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔


عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس نے عدالت کو گمراہ کیا اور غلط بیانی سے کام لیا۔


 ایڈیشنل سیشن جج محمد ایاز خان نے حکم دیا کہ ایس ایچ او خالد خان اور محرر نعمان خان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس سلسلے میں تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او کو ہدایت دی گئی ہے کہ مقدمہ درج کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔


 رپورٹ: غنچہ نیوز

Previous Post Next Post