اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور Rana Sanaullah نے کہا ہے کہ ووٹ ڈالنے کی عمر میں اضافے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مختلف امور پر مشاورت جاری ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام "جرگہ" میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص 25 سال کی عمر سے پہلے الیکشن نہیں لڑ سکتا تو اس صورت میں الیکشن لڑنے کی عمر کو بھی 18 سال تک کم کرنے پر غور ہونا چاہیے۔ موجودہ انتخابی قوانین کے مطابق پاکستان میں ووٹر بننے کے لیے شہری کی عمر کم از کم 18 سال ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم میں قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کے وسائل کی تقسیم، آبادی پر کنٹرول کے اقدامات اور نئے آبی ذخائر کی تعمیر سمیت کئی اہم معاملات شامل ہو سکتے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے اتفاقِ رائے کے بغیر کسی آئینی ترمیم کو آگے نہیں بڑھائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی اخراجات کو موجودہ وسائل کی تقسیم کے نظام سے الگ بھی رکھا جا سکتا ہے، اس لیے NFC فارمولے میں تبدیلی ضروری نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان معاملات پر مشاورت پہلے سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عیدالاضحیٰ سے قبل ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئی ترمیم کے ذریعے 18ویں آئینی ترمیم کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ 18ویں آئینی ترمیم Eighteenth Amendment to the Constitution of Pakistan سنہ 2010 میں Pakistan Peoples Party کی حکومت کے دوران منظور کی گئی تھی، جس کے تحت صحت، خواتین کی ترقی، سماجی بہبود اور بلدیاتی نظام سمیت کئی اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر قانون Azam Nazeer Tarar نے بھی واضح کیا ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کا عمل صرف اتفاقِ رائے سے ہی آگے بڑھے گا اور فی الحال 28ویں آئینی ترمیم کے کوئی آثار نہیں۔
ادھر Bilawal Bhutto Zardari نے بھی فوری طور پر 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق کسی قسم کی بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اس حوالے سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔
بشکریہ:geo news
#RanaSanaullah #28thAmendment #GeoNews #PakistanPolitics #NFC #18thAmendment #BilawalBhutto #AzamNazeerTarar #ConstitutionOfPakistan
